صاحب الزمان

قسم کلام: اسم معرفہ

معنی

١ - وقت و زمانے کا مالک اور امام، صاحب الامر۔ "کتاب کا تیسرا حصہ نعمت اللہ کے ذاتی مشاہدات پر مشتمل ہے، سب خاندان کو متفق و متحد کرے، گناہوں سے نجات دلائے (از خیانت پاک نمودن) اور صاحب الزمان کے سامنے لوگوں کی شفاعت کرے۔"      ( ١٩٦٨ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٥٨٥:٣ ) ٢ - [ تصوف ]  وہ شخص جو جمعیت برزخ اولٰی کے ساتھ متحقق ہو اور حقائق اشیا پر مطلع اور زبان ماضی اور حال استقبال میں متصرف ہو بہ تصرف و تحقق حق۔ (مصباح التعرف، 157)

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم 'صاحب' کے ساتھ عربی حرف تخصیص 'ال' لگا کر عربی اسم 'زمان' لگانے سے مرکب بنا۔ اردو زبان میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٧٤ء کو انیس کے ہاں "رباعیات" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - وقت و زمانے کا مالک اور امام، صاحب الامر۔ "کتاب کا تیسرا حصہ نعمت اللہ کے ذاتی مشاہدات پر مشتمل ہے، سب خاندان کو متفق و متحد کرے، گناہوں سے نجات دلائے (از خیانت پاک نمودن) اور صاحب الزمان کے سامنے لوگوں کی شفاعت کرے۔"      ( ١٩٦٨ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٥٨٥:٣ )

جنس: مذکر